Skip to main content

عقیدہ حیات مسیح کا منبع

عقیدہ حیات مسیح کا منبع


مسلمانوں میں سے ایک گروہ کا خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مادی جسم سمیت آسمان پر اٹھالیا اور آخری زمانہ میں وہ دوبارہ اسی جسم سمیت زمین پر اتریں گے۔

یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس کی قرآن اور حدیث سے کوئی تائید نہیں ہوتی ۔ بلکہ قرآن کریم کی متعدد آیات واضح طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کو دوسرے انبیاء کی طرح وفات یافتہ قرار دیتی ہیں اور حدیث میں تو رسول کریم ﷺ نے ان کی عمر بھی ۱۲۰ سال قرار دی ہے ۔ (کنزالعمال جلد ۱۱ صفحہ ۴۷۹ مؤستہ الرسالہ ۔ بیروت)

صحابہ اور بزرگان امت کا عقیدہ

رسول کریم ﷺ کی وفات پر تمام صحابہ کا اجماع اس بات پر ہوا تھا کہ رسول کریم ﷺ بھی اسی طرح فوت ہوئے جس طرح پہلے تمام انبیاء نے وفات پائی ہے ۔ (بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی از امام بخاری)

حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور آپ کی جماعت کا بھی یہی عقیدہ ہے ۔ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی بانی جماعت احمدیہ نے قرآن کریم کی تیس آیات اور متعدد احادیث سے مسیح علیہ السلام کی وفات ثابت کی ہے اور اس موضوع پر ایک زبردست چیلنج بھی دیا ہے۔

بانی سلسلہ احمدیہ کا چیلنج

’اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے تو نہ کوئی آیت پیش کرسکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث دکھلاسکتے ہیں صرف نزول کے لفظ کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ ملا کرعوام کو دھوکا دیتے ہیں مگر یاد رہے کہ کسی حدیث مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا اور نزول کا لفظ محاورات عرب میں مسافر کیلئے آتا ہے اور نزیل مسافرکو کہتے ہیں ۔ چنانچہ ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادب کے طور پر کسی وارد شہر کو پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کہاں اترے ہیں اور اس بول چال میں کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ شخص آسمان سے اترا ہے اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو توصحیح حدیث تو کیا وضعی حدیث بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰ ؑ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں گے ۔ اگر کوئی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے ہیں اور توبہ کرنا اور تمام اپنی کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہوگا۔‘ (کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۲۲۵ حاشیہ)

یہ چیلنج ۱۸۹۸ء میں دیا گیا تھا اور اس پر ایک سو سال پورے ہوگئے مگر اس کے خلاف ایک بھی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔حقیقت یہ ہے کہ حیات مسیح کا عقیدہ اسلامی عقیدہ نہیں بلکہ صحابہ کے دور کے بعد عیسائیوں کی طرف سے آیا ہے ۔ چنانچہ قدیم اور جدید علماء اور مفسرین کی یہی تحقیق ہے اور مسلسل اس صداقت کا اقرار کرتے چلے جارہے ہیں ۔

عظیم متکلم علامہ ابن قیم

یہ جو مسیح کے بارہ میں ذکرکیا جاتا ہے کہ وہ ۳۳ سال کی عمر میں آسمان کی طرف اٹھائے گئے اس کا ثبوت کسی مرفوع متصل حدیث سے نہیں ملتا۔ (زادالمعاد جلد اول صفحہ ۲۰ از امام ابن قیم مطبع میمنیہ مصر)

حنفی عالم علامہ ابن عابدین الشامی

امام ابن قیم کا نظریہ درست ہے اور واقعی یہ عقیدہ مسلمانوں میں عیسائیوں سے آیا ہے ۔ (تفسیر فتح البیان جلد ۲ صفحہ ۴۹ از نواب صدیق حسن خان، مطبع کبریٰ میریہ مصر۔ ۱۳۰۱ھ)

مشہور مفسر اور مسلمان لیڈر سر سید احمد خان

تین آیتوں سے حضرت عیسیٰ کا اپنی موت سے وفات پانا علانیہ ظاہر ہے مگر چونکہ علماء اسلام نے بہ تقلید بعض فرق نصاریٰ کے قبل اس کے کہ مطلب قرآن مجید پر غور کریں یہ تسلیم کرلیا تھا کہ حضرت عیسیٰ زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں ۔ اس لئے انہوں نے ان آیتوں کے بعض الفاظ کو اپنی غیر محقق تسیلم کے مطابق کرنے کی بیجا کوشش کی ہے ۔ (تفسیر القرآن جلد ۲ صفحہ ۴۳ از سرسید احمد خان دوست ایسوسی ایٹس ۱۹۹۴ء)

مولانا عبیداللہ سندھی

یہ جو حیات عیسیٰ لوگوں میں مشہور ہے وہ ایک یہودی کہانی اور صابی من گھڑت افسانہ ہے مسلمانوں میں فتنہ عثمان کے بعد بواسطہ انصار بنی ہاشم یہ بات پھیلی اور یہ صابی اور یہودی تھے قرآن میں کوئی ایسی آیت نہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہو کہ عیسیٰ نہیں مرا۔ (الہام الرحمان فی تفسیر القرآن اردو جلد اول صفحہ ۲۴۰ از عبیداللہ سندھی ادارہ بیت الحکمت ۔ کبیر والا ملتان)

نواب اعظم یار جنگ مولوی چراغ علی

رفع کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔’ یہ بات تفحیم و تشریف و تفحیم کے طور پر کہی جاتی ہے نہ یہ کہ وہ درحقیقت آسمان کی طرف بادلوں میں اڑتے ہوئے نظر آئے اور کسی آسمان پر جا بیٹھے ان باتوں کی ہمارے ہاں کوئی اصل نہیں ۔ بعد میں حضرت عیسیٰ یقیناًمرگئے جس کی خبر قرآن مجید میں دوسری جگہ دی گئی ہے ۔ (تہذیب الاخلاق جلد ۳ صفحہ ۲۲۱ از نواب اعظم یار مطبوعہ ۱۸۹۶ء)

مشہور مفکر غلام احمد پرویز

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اب تک زندہ ہونیکی تائید قرآن کریم سے نہیں ملتی ۔ قرآن کریم آپ کی وفات پاجانے کا بصراحت ذکر کرتا ہے ۔۔۔ حضرت عیسیٰ کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کا تصور مذہب عیسائیت میں بعد کی اختراع ہے ۔ (شعلہ مستور ۷۹ ۔۸۳ از غلام احمد پرویز ادارہ طلوع اسلام لاہور)

معروف ادیب اور مفسر ابوالکلام آزاد

یہ عقیدہ اپنی نوعیت میں ہر اعتبار سے ایک مسیحی عقیدہ ہے اور اسلامی شکل و لباس میں ظاہر ہوا ہے ۔ (نقش آزاد صفحہ ۱۰۲ کتاب منزل لاہور طبع دوم جولائی ۵۹)

ممتاز عرب عالم عبدالکریم الخطیب

قرآن مجید میں مسیح کی دوبارہ آمد کا کوئی ذکر نہیں مسیح کے بارے میں اکثر روایات علماء اہل کتاب نے اسلام میں داخل کی ہیں ۔ (المسیح فی القرآن صفحہ ۵۳۸ دارالکتب الحدیثہ شارع جمہوریہ طبع اول ۱۹۶۵ء)

علامہ شورائی

عیسائی علماء نے یہودیوں کو دائرہ عیسائیت میں لانے کی خاطر بے سروپا باتیں عوام میں پھیلادیں ۔ وفات کے متعلق بھی لوگوں کو ذہن نشین کرایا گیا کہ حضرت عیسیٰ نے صلیب پر جان تو ضرور دی ہے لیکن تین دن کے بعد زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ گئے اور قیامت کے قریب زمین پر اتریں گے اور عیسائیت کے دشمنوں کا قلع قمع کریں گے ۔ (سائنٹفک قرآن پارہ دوم صفحہ ۷۶ از علامہ شورائی قرآن سوسائٹی کراچی)


اب فیصلہ آپ کا کام ہے کہ درست بات کونسی ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

If Jesus did not die upon the cross: A study in evidence

The Last Supper This is a small booklet with a very descriptive title, written by an Australian Judge, Ernest Brougham Docker, in 1920. He became a judge of the District Court and chairman of Quarter Sessions for the north-western district in 1881. He retired in 1918 after the passage of the Judges Retirement Act.
He examines the limitations in the so called testimony of the apostles about resurrection in his book. He makes several strong points against resurrection of Jesus, may peace be on him, but one that can be described in a few lines is quoted here:
“He (Jesus) expressed his forebodings to His disciples, I firmly believe; I am equally convinced that He did not predict His rising again. The Conduct of the disciples after crucifixion shows that they had no expectation of a resurrection; and it is altogether incredible that they could have forgotten a prediction so remarkable.”
There are 14 parts of this short booklet by Ernest Brougham Docker, published in 1920. The fifth part concl…

وفات مسیح پر حضرت ابن عباس ؓ کا عقیدہ

سیدناحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورۃآل عمران کی  آیت نمبر ۵۶

کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ مُمِیْتُکَ ۔یعنی مُتَوَفِّیْکَ کا مطلب ہے میں تجھے موت دینے والا ہوں ۔

WHY JESUS DID NOT DIE ON THE CROSS

“The standard explanations for the crucifixion of Jesus created a deep mystery of motive and consequence, raising many questions about what truly is God’s plan for our salvation.”
The crucifixion of Jesus Christ (peace be upon him) is undeniably one of the most emotionally charged and controversial events in all of religious history. It is also one of the most powerful and political, in that it laid the foundation for Christianity’s main principle of mankind’s spiritual salvation – that Jesus Christ was destined by God to die on the cross for our sins. But is this really God’s or even Jesus’ idea? The facts about what happened to Jesus 2000 years ago have been shrouded in mystery for as long as Christianity has existed as a major world religion. The commonly held views of the events of the crucifixion and the life and purpose of Jesus are well known to virtually every Christian and most others who have come in contact with Western Christian nations. But is this view, in fact, the truth? O…